دریا مچل رہا ہے اگر انتقام کو.
میں بھی لکِھوں گا ریت پہ اب اپنے نام کو.
کہتے ہیں اُس سے بچ کے گزرتی ہیں آندھیاں.
جس قبر پر چراغ نہ جلتا ہو شام کو.
ساحل بھگو رہی تھی سخاوت فُرات کی.
گھیرا ہُوا تھا آگ نے میرے خیام کو.
بیدارئی ضمیرِ کفِ خاک حشر ہے.
سورج اُتر رہا ہے زمیں کے سلام کو.
تنقید کر کے میرے ہُنر کی اُڑان پر.
تسلیم کر رہا تھا وہ میرے مقام کو.
جو تیری منتظر تھیں وہ آنکھیں ہی بجھ گئیں.
اب کیوں سجا رہا ہے چراغوں سے بام کو.
رُوٹھی ہوُئی ہوائیں کہاں ہیں کہ دشت میں.
محسن ترس گئے ہیں بگولے. خرام کو
محسن نقوی
کہتے ہیں اُس سے بچ کے گزرتی ہیں آندھیاں. جس قبر پر چراغ نہ جلتا ہو شام کو.
Reviewed by Aamir Rana
on
مئی 10, 2018
Rating:
کوئی تبصرے نہیں: