Seo Services

آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے


بے سہارا ہوں سہارا بھی کہاں ملتا ہے
ڈوبتا ہوں تو کنارہ بھی کہاں ملتا ہے
آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر
اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے
یاد ہے تم کو رہا کرتے تھے ہم ساتھ کبھی
وہ حسیں دن وہ نظارہ بھی کہاں ملتا ہے
لوگ اب مجھ کو ستاتے ہیں کوئی بات نہیں
اب وہی قرب تمارا بھی کہاں ملتا ہے
دوست دیتے تھے کبھی ہم کو سہارا ثاقب
ہائے وہ آج سہارا بھی کہاں ملتا ہے
نادر ثاقب

آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے  آپ محلوں میں رہا کرتے ہو ہم سڑکوں پر اپنی قسمت کا ستارہ بھی کہاں ملتا ہے Reviewed by Aamir Rana on فروری 11, 2020 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

ads 728x90 B
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.