Seo Services

ہوائیں ہیں حوادث کی اڑا لے جائیں گی سب کچھ اگر میں رہ گئی تنہا تو گھر آباد کیا ہوگا

یہی تو سوچ کر اب خوف آتا ہے مجھے اکثر
ابھی تو ٹھیک ہے لیکن تمہارے بعد کیا ہوگا

ہوائیں ہیں حوادث کی اڑا لے جائیں گی سب کچھ
اگر میں رہ گئی تنہا تو گھر آباد کیا ہوگا

نہ خوشبو ہے نہ سایا ہے نہ اُس کی کوئی آہٹ ہے
اب اس سے بڑھ کے میرا گھر بھلا برباد کیا ہوگا

جہاں اس زندگانی کا آخری اک موڑ آتا ہے
وہاں بھی ہوسکی مجھ سے نہ کچھ فریاد کیا ہوگا

مجھی میں رہ گیا گھُٹ گھُٹ کے میری ذات کا پنچھی
اگر آزاد اب ہوگا تو یہ آزاد کیا ہوگا
ہوائیں ہیں حوادث کی اڑا لے جائیں گی سب کچھ اگر میں رہ گئی تنہا تو گھر آباد کیا ہوگا  ہوائیں ہیں حوادث کی اڑا لے جائیں گی سب کچھ  اگر میں رہ گئی تنہا تو گھر آباد کیا ہوگا Reviewed by Aamir Rana on مئی 15, 2018 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

ads 728x90 B
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.